…ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

Advertisements

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا 
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا 

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم 
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا 

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود 
سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا 

کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام 
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا 

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں 
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا 

Poet: Perveen Shakir

Advertisements